کوئی ملتا ہی نہیں سوختہ پا میری طرح
جس کو معلوم ہو وحشت کا پتا میری طرح
میرے جیون کو اداسی سے ملانے والا
دشت میں پھِرتا رہے آبلہ پا میری طرح
میں نے احباب کو آواز لگا کر پوچھا
کوئی رہتا ہے شبِ غم میں سدا، میری طرح
اے کئی دن سے مِرے ذہن پہ چھائے ہوئے شخص
تُو مجھے وصل کے سپنے نہ دکھا میری طرح
رات بھر چاند کو احوال سنانے کے لیے
کیا ٹھہرتی ہے دریچوں میں ہوا، میری طرح
زندگی! میری طرف دیکھ کے ایماں سے بتا
ایک بھی شخص کوئی تجھ کو مِلا، میری طرح
تند اور تیز ہواؤں کے علاقے میں سعید
زیست کرتا ہے فقط دل کا دِیا میری طرح
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment