شعر ہمارے دل سے نکل کے آہ و فغاں تک پہنچیں گے
رفتہ رفتہ شعر ہمارے سارے جہاں تک پہنچیں گے
ہم نے تو بس شعر کہے ہیں، یہ تو وقت بتائے گا
آنے والے وقت میں اپنے شعر کہاں تک پہنچیں گے
شعروں سے پہچان جہاں میں شاعر کی بس بنتی ہے
شعر ہمارے جہاں گئے ہیں، ہم بھی وہاں تک پہنچیں گے
آپ کے در پر مے پینے کو ساقی ہم آتے ہیں روز
رفتہ رفتہ لیکن اک دن پیرِ مغاں تک پہنچیں گے
شہرت، عزت، مان، بڑائی، سب مل جائے گی امبر
رفتہ رفتہ شعر ہمارے سب کی زباں تک پہنچیں گے
امبر جوشی
No comments:
Post a Comment