Sunday, 2 April 2023

یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے

 یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے 

سکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہے 

وہ آدمی جو ہمیشہ مِرے خلاف رہا 

اسی کی مجھ پہ حکومت دکھائی دیتی ہے 

محبتیں ہی سکھاتی ہیں ہر سبق لیکن 

بہت سے درس ہمیں بے وفائی دیتی ہے 

یہ انگلیاں ہی قلم بن کے چلنے لگتی ہیں 

یہ چشم نم ہی مجھے روشنائی دیتی ہے 

کسی کے عشق نے یوں دل کو کر دیا روشن 

کہ روشنی سی ہر اک سو دکھائی دیتی ہے 

سلوک ایک سا کرتی نہیں ہے الفت بھی 

ملن کسی کو، کسی کو جدائی دیتی ہے 

نہیں ہے دور مِری روح کے قریب ہے وہ 

جھلک اسی کی تو مجھ میں دکھائی دیتی ہے 

نہ ایسی دنیا سے امید اے ولا رکھنا 

جو نیکیوں کے صلے میں برائی دیتی ہے


ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی

No comments:

Post a Comment