Friday, 7 May 2021

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

 کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

پت جھڑ میں تو پات کو آخر جھڑنا پڑتا ہے

کب تک اوروں کے سانچے میں ڈھلتے جائیں گے

کسی جگہ تو ہم کو آخر اڑنا پڑتا ہے

صرف اندھیرے ہی سے دِیے کی جنگ نہیں ہوتی

تیز ہواؤں سے بھی اس کو لڑنا پڑتا ہے

سہی سلامت آگے بڑھتے رہنے کی خاطر

کبھی کبھی تو خود بھی پیچھے ہٹنا پڑتا ہے

شعر کہیں تو عقل و جنوں کی سرحد پر رک کر

لفظوں میں جذبوں کے نگوں کو جڑنا پڑتا ہے

جیون جینا اتنا بھی آسان نہیں آزاد

سانس سانس میں ریزہ ریزہ کٹنا پڑتا ہے


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment