Friday, 7 May 2021

تھوڑی دیر اے ساقی بزم میں اجالا ہے

 تھوڑی دیر اے ساقی بزم میں اجالا ہے

جام خالی ہونے تک چاند ڈھلنے والا ہے

صبح کی حسیں کرنیں ناگ بن کے ڈس لیں گی

میں انہیں سمجھتا ہوں میں نے ان کو پالا ہے

بزمِ نو کی شمعوں کو یہ خبر نہیں ہو گی

کس نے ظلمتِ شب کو روشنی میں ڈھالا ہے

کس نے خوابِ انساں کے نقرئی سفینے کو

سخت تر تلاطم کی زد میں بھی سنبھالا ہے

لوگ ہنس کے کہہ دیں گے میں خرابِ صہبا تھا

مے کدہ یہ خوش ہو گا اس کا بول بالا ہے

میری فکر کی خوشبو قید ہو نہیں سکتی

یوں تو میرے ہونٹوں پر مصلحت کا تالا ہے

میری موت اے ساقی ارتقا ہے ہستی کا

اک سلامؔ جاتا ہے، ایک آنے والا ہے


سلام مچھلی شہری 

No comments:

Post a Comment