بچپن کے ساتھ ساتھ وہ بستہ خرید لا
اے دل! کہیں سے عہدٍ گزشتہ خرید لا
قیدٍ فنا سے اپنی بقاء کو رہائی دے
فرہاد جیسا تو کوئی تیشہ خرید لا
سورج کی روشنی رہے نہ چاند کی کرن
اندھوں کا شہر ہے کوئی رستہ خرید لا
ہم تو فقیر لوگ ہیں ڈھانپیں گے جسم کو
مہنگے لباس چھوڑ دے سستا خرید لا
اب آتشٍ فراق ہے خواہش دھواں دھواں
جا کر شراب وصلٍ یخ بستہ خرید لا
نہ وہ رعنائیِ راہ نہ وہ خیال و خواب
تو ایسا کر جا وقت کا ہی تحفہ خرید لا
ہم کھو گئے تلاشٍ رہِ کوئےٍ یار میں
کچھ تو نویدٍ سحر گُم گشتہ خرید لا
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment