تشنگی
وہ جو بات پوری نہ ہو سکی
وہ جو نظم آدھی ہی رہ گئی
وہ جو دل رُکا تو رُکا رہا
وہ جو میرے آنسو نہ بہہ سکے
وہ جو تیرے لہجے کا عُذر تھا
وہ جو رات تم پہ اُدھار تھی
وہ تمام تم پہ نثار ہیں
کبھی وقت ہو میرے سوہنیا
میرے جوگیا
میرے رانجھنا
تو پلٹ کے آنا یہ دیکھنے
میری زندگی کی کتاب کا
وہ صفحہ ہمیشہ کُھلا رہا
ثمینہ تبسم
No comments:
Post a Comment