Friday, 7 May 2021

وہ جو بات پوری نہ ہو سکی

 تشنگی


وہ جو بات پوری نہ ہو سکی

وہ جو نظم آدھی ہی رہ گئی

وہ جو دل رُکا تو رُکا رہا

وہ جو میرے آنسو نہ بہہ سکے

وہ جو تیرے لہجے کا عُذر تھا

وہ جو رات تم پہ اُدھار تھی

وہ تمام تم پہ نثار ہیں

کبھی وقت ہو میرے سوہنیا

میرے جوگیا

میرے رانجھنا

تو پلٹ کے آنا یہ دیکھنے

میری زندگی کی کتاب کا

وہ صفحہ ہمیشہ کُھلا رہا


ثمینہ تبسم 

No comments:

Post a Comment