Sunday, 3 January 2021

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

 آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا

زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا

مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا

دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے

پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا

تم چمکتی کار پھولوں کی مہک اک اجنبی

ایسے لگتا ہے یہ منظر ہے مرا دیکھا ہوا

ریزہ ریزہ ہو گیا میں تُو نے جب آواز دی

تیری خاموشی سے تھا میں اس قدر ٹوٹا ہوا

کتنی یادیں آنسوؤں میں تھرتھرا کر رہ گئیں

اس نے جب پوچھا؛ کہو آزاد تم کو کیا ہوا؟


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment