حسنِ انتظام کا تیر
پھر ایک بار صفِ دلبراں سے چُھوٹا ہے
بنام چارہ گری، خُوئے انتقام کا تیر
پھر ایک بار ہوئی ہے قبائے خواب کفن
پھر ایک چلا حسنِ انتظام کا تیر
کہا گیا ہے کہ بیمار کی شفا کے لیے
بدن کی شاخ سے، سر کاٹنا ضروری ہے
تنِ سوال طلب، بے کسوں کی آہوں سے
برہنہ غم کی طرح ڈھانپنا ضروری ہے
بیاں ہوا ہے یہ نسخۂ شفا جس کو
صلائے بے خبری، بے مراد کہتی ہے
ہمارے واسطے وجہِ نجات ہے گرچہ
نشہ ہے نیند سا اور موت اس میں رہتی ہے
یہ تیر چاری گری، اعتبار کا قاتل
ہوس میں ڈوبا ہوا، زہر میں بھِجایا ہوا
دلوں کے بیچ لہو کر خلیجنے والا
یہ تیر لگتا ہے پہلے بھی دل پہ کھایا ہوا
حسین مجروح
No comments:
Post a Comment