کیسی مجبوری، بس بہانہ تھا
اس نے ویسے بھی چھوڑ جانا تھا
اک تعلق تھا منتظر اس کا
جاتے جاتے جسے نبھانا تھا
جب بھی آتا تو ذکر غم کرتا
اس کا مقصد ہی دل جلانا تھا
تم نے وعدہ بھلا دیا کیونکر
تم نے تو حوصلہ بڑھانا تھا
تیرے آنے کی بات ہے اتنی
منتوں کا دِیا🪔جلانا تھا
تم جو آتے تمہاری چاہت کا
دل میں میلہ نیا لگانا تھا
آج بھی مجھ کو غم دئیے اس نے
آج تو میں نے مسکرانا تھا
کیسے رکتا وہ پاس میرے آج
لوٹ کر جس کو جلدی جانا تھا
دیکھ کے تجھ کو سبھی یاد آیا
ورنہ میں نے تو بھول جانا تھا
تم تو دریا میں پھینک آئے تھے
مجھ کو ویسے ہی ڈوب جانا تھا
جس طرح سے گیا تھا وہ ساجد
یاد پھر اس نے کم ہی آنا تھا
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment