Sunday, 3 January 2021

جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں

 جو بھی عاشق مثال ہوتے ہیں

لوگ وہ لازوال ہوتے ہیں 

عشق جب امتحان لیتا ہے

سر بھی بچنے محال ہوتے ہیں

ٹوٹ کر بھی نہ ٹوٹ پائیں جو

حوصلے وہ کمال ہوتے ہیں

آنکھوں آنکھوں میں حل جو ہو جائیں

کتنے مشکل سوال ہوتے ہیں

جذبے سچے ہوں تو بچھڑ کر بھی

ہجر لمحے وصال ہوتے ہیں 

کس کو فرصت ہے غم جو بانٹے گا

جان کا یہ وبال ہوتے ہیں 

روز آتے ہیں اپنے سر الزام 

روز بکھرے وہ بال ہوتے ہیں

خود گریباں کو چاک رکھتے ہیں 

یوں محبت میں حال ہوتے ہیں 

جو چھپاتے ہیں دل کے زخموں کو 

ان کے چہرے بحال ہوتے ہیں 

عشق ساجد تو جاودانی ہے

پھر بھی من میں ملال ہوتے ہیں 


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment