کارزارِ عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں
وہ جنونی دار تک جانے کو جو بے تاب ہوں
کوہساروں پر سوا نیزے پہ سورج آئے تو
چوٹیوں کی برف پگھلے وادیاں سیراب ہوں
دوسرے ساحل پہ کوئی سوہنی ہو منتظر
ہم مہینوالوں کے آگے بحر بھی پایاب ہوں
عافیت پاتے ہیں خوابوں کے حسیں بحروں میں لوگ
جب ہر اک موج حقائق میں نہاں گرداب ہوں
افضل پرویز
No comments:
Post a Comment