Sunday, 10 January 2021

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

 میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

سبھی یہ سوچ رہے ہیں کہ مرنے والا ہوں

کسی کی یاد کا مہتاب ڈوبنے کو ہے

میں پھر سے شب کی تہوں میں اترنے والا ہوں

سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں

میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں

مجھے ڈبونے کا منظر حسین تھا، لیکن

حسین تر ہے یہ منظر ابھرنے والا ہوں

حیات فرض تھی یا قرض کٹنے والی ہے

میں جسم و جاں کی حدوں سے گزرنے والا ہوں

میں ساتھ لے کے چلوں گا تمہیں اے ہمسفرو

میں تم سے آگے ہوں لیکن ٹھہرنے والا ہوں

صدائے دشت سہی میری زندگی آزاد

خلائے دشت کو اپنے سے بھرنے والا ہوں


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment