Saturday, 9 January 2021

اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

 اپنی ساری کاوشوں کو رائیگاں میں نے کیا

میرے اندر جو نہ تھا اس کو بیاں میں نے کیا

سر پہ جب سایہ رہا کوئی نہ دورانِ سفر

اس کی یادوں کو پھر اپنا سائباں میں نے کیا

اب یہاں پر سانس تک لینا مجھے دشوار ہے

کس تمنا پر زمیں کو آسماں میں نے کیا

لمحہ لمحہ وقت کے ہاتھوں کیا خود کو سپرد

سب گنوا بیٹھا تو پھر فکرِ زیاں میں نے کیا

جب نہ اس کے اور میرے درمیاں کچھ بھی رہا

خود کو ہی پھر اس کے اپنے درمیاں میں نے کیا

دونوں چپ تھے زور سے چلتی ہوا کے سامنے

پھر اچانک خشک پتوں کو زباں میں نے کیا


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment