Saturday, 9 January 2021

عطا ہے عشق اگر ہجر بھی عطائی ہے

 عطا ہے عشق اگر ہجر بھی عطائی ہے

کسی کی بات سے یہ بات یاد آئی ہے

تمہارے نام سے لکھے ہوئے خطوں کی قسم

تمہاری یاد سے کب دل کو اب رہائی ہے

پرانا دیکھ کے البم مجھے خیال آیا

ہماری عمر سے لمبی تو یہ جدائی ہے

یہ غم بھی دنیا میں تقدیر لے کے آئے ہیں

کسی کا اشک ہے پربت کسی کا رائی ہے

یہ سوزِدرد ِ نہاں معرفت کی باتیں ہیں

تمہیں یہ بات مری کب سمجھ میں آئی ہے

اسی کے نام کا ڈنکا بجے گا دنیا میں

کہ جس نے میں سے یہاں پر نجات پائی ہے

خدا کرے کہ تجھے راس آئے شاہی تری

مجھے عزیز درِ عشق کی گدائی ہے

کسی بھی راہ چلوں مجھ کو ایسا لگتا ہے

تمہارے ہاتھ میں اب تک مِری کلائی ہے


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment