عطا ہے عشق اگر ہجر بھی عطائی ہے
کسی کی بات سے یہ بات یاد آئی ہے
تمہارے نام سے لکھے ہوئے خطوں کی قسم
تمہاری یاد سے کب دل کو اب رہائی ہے
پرانا دیکھ کے البم مجھے خیال آیا
ہماری عمر سے لمبی تو یہ جدائی ہے
یہ غم بھی دنیا میں تقدیر لے کے آئے ہیں
کسی کا اشک ہے پربت کسی کا رائی ہے
یہ سوزِدرد ِ نہاں معرفت کی باتیں ہیں
تمہیں یہ بات مری کب سمجھ میں آئی ہے
اسی کے نام کا ڈنکا بجے گا دنیا میں
کہ جس نے میں سے یہاں پر نجات پائی ہے
خدا کرے کہ تجھے راس آئے شاہی تری
مجھے عزیز درِ عشق کی گدائی ہے
کسی بھی راہ چلوں مجھ کو ایسا لگتا ہے
تمہارے ہاتھ میں اب تک مِری کلائی ہے
دلشاد نسیم
No comments:
Post a Comment