Saturday, 9 January 2021

فاسق ہیں منافق ہیں ریا کار بہت ہیں

 فاسق ہیں، منافق ہیں، ریا کار بہت ہیں

مطلب کے وفادار ہیں، غدار بہت ہیں

بندوں کی خطاؤں سے سوا ہے تِری رحمت

مالک مِرے، دنیا سے مِٹا دے سبھی کلفت

لب پر ہے دعا، آنکھ سے بہتا ہے سمندر

گر تیری رضا ہو تو پلٹ جائے مقدر

کیوں آج مسلمان حرم جا نہیں سکتے 

مسجد میں نمازی کے قدم آ نہیں سکتے

کیوں آج دعاؤں کو جزا مل نہیں پاتی 

بارش تِری رحمت کی برس کیوں نہیں جاتی

غفار ہے، رحمان ہے، رحمت کو رقم کر

اس خوف میں ڈوبی ہوئی دھرتی پہ کرم کر


ذکیہ غزل

No comments:

Post a Comment