ہر دکھ مجھے قبول، مگر یہ ستم نہ ہو
یارب! بچھڑتے وقت بھی وہ آنکھ نم نہ ہو
یہ کیا کہ ساری رات کٹے جاگتے ہوئے
اور پھر بس ایک شعر ہو اس میں بھی دم نہ ہو
یہ کیا کہ ایک در سے بندھے ہوں تمام عمر
یہ کیا کہ ایک بار بھی نظرِ کرم نہ ہو
یہ کیا کہ کہ شعر شعر سے ٹپکیں لہو کے اشک
لیکن یہ کیا کہ زندگی میں کوئی غم نہ ہو
یہ کیا کہ سب سے داد کے طالب ہو شاعرو
یعنی کہ وہ بھی روئے جسے کوئی غم نہ ہو
اے کاش اپنی جنگ چھڑے اس بدن کے ساتھ
اور دونوں سمت امن کا کوئی علم نہ ہو
سانسیں اکھڑ اکھڑ کے چلیں پر چلیں ضرور
ہم میں جدائی ہو تو کبھی ایک دم نہ ہو
احسن سلیمان
No comments:
Post a Comment