Tuesday, 15 December 2020

بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

 بہت لمبا سفر تپتی سلگتی خواہشوں کا تھا

مگر سایا ہمارے سر پہ گزری ساعتوں کا تھا

سروں پہ ہاتھ اپنے گھر کی بوسیدہ چھتوں کا تھا

مگر محفوظ سا منظر ہمارے آنگنوں کا تھا

کسی بھی سیدھے رستے کا سفر ملتا اسے کیوں کر

کہ وہ مسدود خود اپنے بنائے دائروں کا تھا

کبھی ہنستے ہوئے آنسو کبھی روتی ہوئی خوشیاں

کرشمہ جو بھی تھا سارا ہماری ہی حسوں کا تھا

خود اپنی کاوشوں سے ہم نے اپنی قسمتیں لکھیں

مگر کچھ ہاتھ ان میں بھی ہمارے دشمنوں کا تھا

نئے رشتے مقدس خواب سے آواز دیتے تھے

مگر آسیب سا دل پر گزشتہ رابطوں کا تھا

کسے ملتی نجات آزاد ہستی کے مسائل سے

کہ ہر کوئی مقید آب و گل کے سلسلوں کا تھا


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment