نہیں کچھ اور دل کو سوجھتا کیا
وہی دنیا میں ہے اک دلربا کیا
ہے ڈھونڈا خوب لڑنے کا بہانہ
کہا میں نے تھا کیا، تم نے سنا کیا
فغاں سنتا نہیں ہے اب ہماری
خدا بھی ہو گیا ہم سے خفا کیا
یہ چپ کیسی عجب دل کو لگی ہے
ہے گزرا اس پہ کوئی سانحہ کیا
جواب آیا نہیں نسریں فلک سے
ابھی رستے میں ہے حرفِ دعا کیا
نسرین سید
No comments:
Post a Comment