Tuesday, 15 December 2020

نہیں کچھ اور دل کو سوجھتا کیا

 نہیں کچھ اور دل کو سوجھتا کیا

وہی دنیا میں ہے اک دلربا کیا

ہے ڈھونڈا خوب لڑنے کا بہانہ

کہا میں نے تھا کیا، تم نے سنا کیا

فغاں سنتا نہیں ہے اب ہماری

خدا بھی ہو گیا ہم سے خفا کیا

یہ چپ کیسی عجب دل کو لگی ہے

ہے گزرا اس پہ کوئی سانحہ کیا

جواب آیا نہیں نسریں فلک سے

ابھی رستے میں ہے حرفِ دعا کیا


نسرین سید

No comments:

Post a Comment