Tuesday, 15 December 2020

لڑو تو آنکھ لڑانے کی ضرورت کیا ہے

 لڑو تو آنکھ لڑانے کی ضرورت کیا ہے

برف میں دل کو جلانے کی ضرورت کیا ہے 

مجھے تو خواب بھی آتے ہیں اپنے بچوں کے

تو اور خواب سہانے کی ضرورت کیا ہے

ہمیں تو روز ہی اک روگ لگ رہا ہے نیا

کسی بھی روگ  پرانے کی ضرورت کیا ہے

ہماری بات تو پہلے بھی کہہ گٸے شاعر

میرا خیال چرانے کی ضرورت کیا ہے


الوینہ چیمہ

No comments:

Post a Comment