لڑو تو آنکھ لڑانے کی ضرورت کیا ہے
برف میں دل کو جلانے کی ضرورت کیا ہے
مجھے تو خواب بھی آتے ہیں اپنے بچوں کے
تو اور خواب سہانے کی ضرورت کیا ہے
ہمیں تو روز ہی اک روگ لگ رہا ہے نیا
کسی بھی روگ پرانے کی ضرورت کیا ہے
ہماری بات تو پہلے بھی کہہ گٸے شاعر
میرا خیال چرانے کی ضرورت کیا ہے
الوینہ چیمہ
No comments:
Post a Comment