Monday, 19 April 2021

مرے آنگن کی مٹی کی سماعت بھی

 مِرے آنگن کی مٹی کی سماعت بھی

تمہاری ایک آہٹ کے لیے کب سے ترستی ہے

دریچوں کی کھُلی آنکھوں سے

اک حسرت ٹپکتی ہے

محبت کا کوئی نغمہ ہوا جب گُنگناتی ہے

تمہاری یاد کی خُوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے

ادھورا چاند ہجراں کا

مِری بے خواب آنکھوں کے تعاقب میں

تمہاری راہ تکتا ہے

گلوں کی نرمیوں کو اوس چھُونے کو اترتی ہے

مِری آنکھوں کی شبنم سے تمہاری بات کرتی ہے

کبھی جب رات بستر پر مِرے تھک کر جو آتی ہے

مِرے تکیے کے نم سے اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

وہ میری ہمنوا بن کر

تمہیں آواز دیتی ہیں

تمہیں واپس بلاتی ہیں

درِ آید میں نے شہرِ دل کا کھول رکھا ہے

کہ تم کو لوٹ آنا ہے

ذرا موہوم سی آہٹ پہ بھی دل چونک اٹھتا ہے

کہ جیسے تم چلے آئے

مجھے محسوس ہوتا ہے

کہ برگ و گل سے لے کر آسمانوں تک کا ہر ذرہ

تمہاری راہ تکتا ہے

مگر میں نے سنا یہ ہے

بچھڑ جاتے ہیں جو اک بار وہ پھر مل نہیں پاتے

سنو! اک بار آ جاؤ

زمانے کو بتا جاؤ

کہ دنیا جو بھی کہتی ہے ہمیشہ

سچ نہیں ہوتا


شاہدہ مجید

No comments:

Post a Comment