Monday, 19 April 2021

جو زیر آب تھے ان کو چناب دینا پڑا

 جو زیرِ آب تھے ان کو چناب دینا پڑا

برائے تشنہ لبی پھر سراب دینا پڑا

بہت سے لوگ محبت کے مقتضی تھے یہاں

پر اس کو دیکھ کے سب کو جواب دینا پڑا

عجب طرح کی جسارت کا سامنا تھا مجھے

جو خود گُلاب تھا اس کو گُلاب دینا پڑا

دکھائی دی ہے کٹہروں میں شعبدہ بازی

امیرِ شہر کو جب بھی حساب دینا پڑا

کچھ اس لیے بھی کہ ٹُوٹے نہ رتجگوں کا بھرم

کسی کی جاگتی آنکھوں کو خواب دینا پڑا

بہ شکلِ آبلہ پائی بہ طرزِ گردِ قبا

برائے مکتبِ صحرا نصاب دینا پڑا

ہمیں کچھ اپنی سخاوت کی آبرو تھی عزیز

سوال کرتی تپش کو سحاب دینا پڑا

جو اس کے نام غزل تھی وہ پیش کی عباس

بیاضِ شعر سے جب انتخاب دینا پڑا


حیدر عباس

No comments:

Post a Comment