زخم بھرئیے اسے رفو کیجے
اب کوئی اور گفتگو کیجے
ذکر میرا نہ کو بکو کیجے
جو گِلہ ہے وہ دو بدو کیجے
چاک کر دیجئے قبائے سکوت
رقصِ بسمل ہے ہا و ہو کیجے
وحشتیں آنکھ میں سمٹ آئیں
دل کو اتنا لہو لہو کیجے
گھونٹ بھرئیے شرابِ ہجراں کا
تلخئ غم کو ہم سبُو کیجے
نخلِ امید کو ہرا رکھئے
پھُول کھلنے کی آرزو کیجے
یوں نہ کیجے نمازِ عشق ادا
پُرسشِ حُسن با وضو کیجے
خود کو پہچانیے ذرا صاحب
آئینہ اپنے رو برو کیجے
جس کو پانے کی دُھن میں رہتے ہیں
اس کو پانے کی جستجو کیجے
فرح کامران
No comments:
Post a Comment