Monday, 19 April 2021

راشدہ روٹھی ہوئی رت کو منانے کے لیے

 راشدہ رُوٹھی ہوئی رُت کو منانے کے لیے

چاند پھر جھیل میں اُترا ہے نہانے کے لیے

پھر سے برسات کے موسم نے قیامت کر دی

دل ہے بے تاب تِرے قُرب کو پانے کے لیے

روز دریا کے کنارے پہ چلی جاتی ہوں

پانیوں پر میں تِرا نقش بنانے کے لیے

نرم یادوں بھرے کچھ عکس سمیٹے میں نے

اور کچھ پھُول چُنے آئینہ خانے کے لیے

کتنے نادیدہ زمانوں سے گُزرنا ہے ابھی

کُوزہ گر آنکھ میں اُس کی مجھے آنے کے لیے

میری آنکھوں کو پڑھے وہ بھی تو ماہین ملک

کاش کچھ رنگ محبت کے چُرانے کے لیے


راشدہ ماہین ملک

No comments:

Post a Comment