Monday, 19 April 2021

ایسا اک خواب تو دکھائے مجھے

 ایسا اک خواب تو دِکھائے مُجھے

جس میں یہ نیند چھوڑ آئے مجھے

اس کی آنکھوں میں خود کو دیکھا ہے

آئینہ کچھ نیا دِکھائے مجھے

میں براہیمؑ کا مقلد ہوں

بولیے آگ سے جلائے مجھے

میں نے چھوڑا تو ٹُوٹ جائے گی

اس سے بولو کہ چھوڑ جائے مجھے

پہلے سائے کو میں ڈراتا تھا

اب ڈراتے ہیں دیکھ سائے مجھے

آسماں تک گِرا دیا مجھ پر

لوگ پھِر بھی نہ توڑ پائے مجھے

کتنا دُشوار ہے ہرا رہنا؟

یار یہ خوف کھا نہ جائے مجھے


ش زاد

شین زاد

No comments:

Post a Comment