Monday, 19 April 2021

جب گھر ہی جدا جدا رہے گا

 جب گھر ہی جدا جدا رہے گا

پھر ہاتھ میں ہاتھ کیا رہے گا

وہ میرے خیال کا شجر ہے

آنکھوں میں ہرا بھرا رہے گا

مہمان وہ خال و خد رہیں گے

جب تک مِرا شب کدہ رہے گا

رشتہ مِرے ساحلِ نفس سے

اس موجِ سراب کا رہے گا

وہ حرف جو اس نے لکھ دیا ہے

تا عمر یوں ہی لکھا رہے گا

اے معجزہ ہوا سنا دے

وہ مجھ میں سدا کھِلا رہے گا


شاہدہ حسن

No comments:

Post a Comment