کون شامل ہے مِرے گِریے میں تنہائی میں
نور ہی نور اُبھرنے لگا بینائی میں
خاک زادوں کی نگاہوں میں تحیّر جاگا
آسماں سر پہ نہ اُٹھا لے وہ انگڑائی میں
اس کی تصویر اُبھر آئی ہے دیواروں پہ
اس قدر یاد کیا ہے اُسے تنہائی میں
اس بہانے سے تِرے نام سے منسُوب تو ہوں
مطمئن دل ہے تِرے نام کی رُسوائی میں
مجذوب ثاقب
No comments:
Post a Comment