دے رہا ہے ثمر اداسی کا
میرے دل میں شجر اداسی کا
پورے تن کو بنا کے مٹی سے
دل بنایا مگر اداسی کا
مجھ سے اک بار تو سبب پوچھو
اے مِرے بے خبر اداسی کا
تم مداوا نہ کر سکو گے کبھی
اے مِرے چارہ گر اداسی کا
میں نے دیکھا اداس نظروں سے
موسموں پر اثر اداسی کا
کیف آور تھا ابتدا میں عشق
اور باقی سفر اداسی کا
پہلے تم تھے مکیں مگر اب تو
دل ہے مدت سے گھر اداسی کا
شاہدہ مجید
No comments:
Post a Comment