کسے پروا لگی ہے آگ کس کے آشیانے میں
چمن والے مگن ہیں جشن چراغاں کے منانے میں
جو ذمے دار تھے آرائش صحن گلستاں کے
وہی مصروف ہیں آشیانوں کے جلانے میں
نہ دیکھ اے آسماں تو رشک سے میرے نشیمن کو
ہوا ہے صَرف خونِ دل مرا اس کے بنانے میں
کسی کو کیا خبر کہ اس دل نازک پہ کیا گزری
جفا کا ذکر جب آیا وفاؤں کے فسانے میں
یاسمین عمر بیتی یاد کرنے میں جنہیں
وہی ہیں مصروف آج مجھے بھلانے میں
شگفتہ یاسمین
No comments:
Post a Comment