ہجر کے اندهیروں میں چاند بن کے چمکیں گے
ذہن کے دریچوں میں کچھ خیال رکهے ہیں
کانچ ٹوٹے خوابوں کے اک بیاض یادوں کی
اک دراز میں ہم نے سب سنبهال رکهے ہیں
ڈوبنے نہیں دیتا تیرا غم ہمیں، ورنہ
بے حسی کی دلدل میں پاؤں ڈال رکهے ہیں
اور کتنے بهٹکیں گے، اور کتنے بہکیں گے
ہم نے ان کی آنکهوں سے یہ سوال رکهے ہیں
وہ مِرے تخیل کی حسن کاریاں تهیں بس
ورنہ تیری آنکهوں میں کیا کمال رکهے ہیں
آسماں سے اک تارا ٹوٹتے ہوئے بولا
ہر عروج کے پیچهے کچھ زوال رکهے ہیں
جب بهی چاہیں آتے ہیں زہر پهونک جاتے ہیں
ہم نے آستینوں میں سانپ پال رکهے ہیں
شاہدہ مجید
No comments:
Post a Comment