Thursday, 15 April 2021

ہجر کے اندهیروں میں چاند بن کے چمکیں گے

 ہجر کے اندهیروں میں چاند بن کے چمکیں گے

ذہن کے دریچوں میں کچھ خیال رکهے ہیں

کانچ ٹوٹے خوابوں کے اک بیاض یادوں کی

اک دراز میں ہم نے سب سنبهال رکهے ہیں

ڈوبنے نہیں دیتا تیرا غم ہمیں، ورنہ

بے حسی کی دلدل میں پاؤں ڈال رکهے ہیں

اور کتنے بهٹکیں گے، اور کتنے بہکیں گے

ہم نے ان کی آنکهوں سے یہ سوال رکهے ہیں

وہ مِرے تخیل کی حسن کاریاں تهیں بس

ورنہ تیری آنکهوں میں کیا کمال رکهے ہیں

آسماں سے اک تارا ٹوٹتے ہوئے بولا

ہر عروج کے پیچهے کچھ زوال رکهے ہیں

جب بهی چاہیں آتے ہیں زہر پهونک جاتے ہیں

ہم نے آستینوں میں سانپ پال رکهے ہیں


شاہدہ مجید

No comments:

Post a Comment