ہونے کی فریاد سنائی تھی میں نے
چیخی تھی آواز لگائی تھی میں نے
تھا کتنا بحران ادھر بینائی کا
پر تیری تصویر بنائی تھی میں نے
اتنے بھی حالات خراب نہیں میرے
پر جو چپاتی جو کی کھائی تھی میں نے
رات کسی کھائی میں گرنے والی ہوں
دن میں بھی تو ٹھوکر کھائی تھی میں نے
اپنے آپ سے ملنے نکلی تھی شہلا
خار و خس پر سبھا جمائی تھی میں نے
شہلا شہناز
No comments:
Post a Comment