Thursday, 15 April 2021

ہونے کی فریاد سنائی تھی میں نے

 ہونے کی فریاد سنائی تھی میں نے

چیخی تھی آواز لگائی تھی میں نے

تھا کتنا بحران ادھر بینائی کا

پر تیری تصویر بنائی تھی میں نے

اتنے بھی حالات خراب نہیں میرے

پر جو چپاتی جو کی کھائی تھی میں نے

رات کسی کھائی میں گرنے والی ہوں

دن میں بھی تو ٹھوکر کھائی تھی میں نے

اپنے آپ سے ملنے نکلی تھی شہلا

خار و خس پر سبھا جمائی تھی میں نے


شہلا شہناز 

No comments:

Post a Comment