Thursday, 15 April 2021

کس سادگی سے چھوڑ دیا ہے بہاؤ پر

 کس سادگی سے چھوڑ دیا ہے بہاؤ پر

حالانکہ ہم سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر

ہم کھلکھلا کے ہنستے ہیں ہر تازہ گھاؤ پر

کچھ لوگ معترض ہیں اسی رکھ رکھاؤ پر

یہ آگ بھی انہیں کی لگائی ہوئی تو ہے

جو لوگ ہاتھ تاپ رہے ہیں الاؤ پر

شہرِ سخن کا طرزِ تجارت عجیب ہے

بِکتے ہیں فکر و فن بھی تو مٹی کے بھاؤ پر

رہزن ہیں، اہلِ قافلہ ہیں، اور گردِ راہ

رہبر کو چھوڑ آئے ہیں پچھلے پڑاؤ پر

ہم بیکسوں پہ اتنا مناسب نہیں ہے ظلم

چینٹا بھی کاٹ لیتا ہے اکثر دباؤ پر

ممکن نہیں ہے عشق کی بازی کو ہار جائیں

دل جیسی چیز ہم نے لگائی ہے داؤ پر

وہ شخص زندگی کی بلندی نہ چھُو سکا

وہ جس کا سانس پھُول گیا ہو چڑھاؤ پر

عشرت خلوص و مہر و وفا دوستی کی لاج

بکتی ہیں ساری چیزیں یہاں ایک بھاؤ پر


عشرت کرتپوری

No comments:

Post a Comment