نظریں ملیں پھر ہاتھ اور پھر ہم گلے ملے
ایسا لگا کہ جیسے دو موسم گلے ملے
رخسار پر اس کے میری آنکھوں کا اشک تھا
جیسے گلِ نسرین سے شبنم گلے ملے
کیسے نہ مانیں عشق و شدّت برقرار ہے
ہنس کر ملے پھر رو دئے جب ہم گلے ملے
مانا مسلسل تھیں تیری محرومیاں، مگر
جاناں تیری یادوں سے ہم پیہم گلے ملے
وہ چومنا تیرا میری آنکھوں کے خواب کو
جیسے کسی ناسور سے مرہم گلے ملے
سیلابِ محبت جنوں دونوں طرف رہا
ہم تم گلے ملے، یا تلاطم گلے ملے
اک نام سے اس ربط کو کیسے نوازتے
کتنے مراسم درمیانِ ہم گلے ملے
روچی ڈرولیا
No comments:
Post a Comment