Thursday, 15 April 2021

نظریں ملیں پھر ہاتھ اور پھر ہم گلے ملے

 نظریں ملیں پھر ہاتھ اور پھر ہم گلے ملے

ایسا لگا کہ جیسے دو موسم گلے ملے

رخسار پر اس کے میری آنکھوں کا اشک تھا

جیسے گلِ نسرین سے شبنم گلے ملے

کیسے نہ مانیں عشق و شدّت برقرار ہے

ہنس کر ملے پھر رو دئے جب ہم گلے ملے

مانا مسلسل تھیں تیری محرومیاں، مگر

جاناں تیری یادوں سے ہم پیہم گلے ملے

وہ چومنا تیرا میری آنکھوں کے خواب کو

جیسے کسی ناسور سے مرہم گلے ملے

سیلابِ محبت جنوں دونوں طرف رہا

ہم تم گلے ملے، یا تلاطم گلے ملے

اک نام سے اس ربط کو کیسے نوازتے

کتنے مراسم درمیانِ ہم گلے ملے


روچی ڈرولیا

No comments:

Post a Comment