Thursday, 15 April 2021

خیال یار کو جگنو بنا دیا گیا ہے

 خیالِ یار کو جگنو بنا دیا گیا ہے

تمہاری یاد کو خُشبو بنا دیا گیا ہے

غزل میں درد کو ایسے سمیٹ لائی ہوں

اسے بهی چیختا آہو بنا دیا گیا ہے

ہر ایک شے میں مجهے تو دکهائی دینے لگا

تجھے بھی جیسے کہ ہر سو بنا دیا گیا ہے

تمہارے بن یہ مری ذات نا مکمل تهی

سو میرے واسطے اب تو بنا دیا گیا ہے

اس اک چراغ سے کتنے چراغ جلتے ہیں

نگاہِ یار کو جادو بنا دیا گیا ہے

تِرے سوا مجهے کچھ بهی نظر نہیں آتا

مِری نگاہ کو یکسو بنا دیا گیا ہے


فرح شاہ

No comments:

Post a Comment