ضبط میں درد کی سہولت ہے
کرب میں جیتنے کی طاقت ہے
نفرتوں کے ہجوم میں مالک
شکر ہے روشنی محبت ہے
خوب جاری ہے اپنی پوجا پاٹ
ایسی عزت میں خاک عزت ہے
شکریہ صبر دینے والے کا
مِرے مالک یہ اک کرامت ہے
ظرف کے امتحان ہوتے ہیں
یہ حقیقت بڑی حقیقت ہے
بوجھ دل پر کوئی نہیں رہتا
گر مِری شاعری سلامت ہے
صبیحہ صبا
No comments:
Post a Comment