Thursday, 15 April 2021

ساری شب ڈھونڈتا پھرا ہے مجھے

ساری شب ڈھونڈتا پھرا ہے مجھے

خواب اک چاہنے لگا ہے مجھے

اب تو کچھ بھی ہو ڈر نہیں لگتا

اپنے انجام کا پتا ہے مجھے

میں اسے دیکھتی رہوں اک ٹک

یعنی بس اس کو دیکھنا ہے مجھے

اب وہ ڈرتا ہے کھو نہ جاؤں میں

اس نے خوشبو بہت لکھا ہے مجھے

جس کا کھویا ہو آ کے لے جائے

چاند کل رات اک ملا ہے مجھے

لطف جو ہے سمیٹنے میں ہے

سو وہ پاگل بکھیرتا ہے مجھے

ایک لڑکا تھا ایک لڑکی تھی

یہ کہانی تھی اک پتا ہے مجھے

جب وہ بہکی تھی تب ندی سی تھی

پھر ہوا کیا یہ جاننا ہے مجھے


پوجا بھاٹیہ

No comments:

Post a Comment