Thursday, 15 April 2021

جس میں لچک ہو صاحب مقدور کے لیے

 جس میں لچک ہو صاحبِ مقدور کے لیے

سچ پوچھئے، تو زہر ہے، دستور کے لیے

بیچا گیا ہے حسن کے بازار میں جسے

سپنے سجائے بیٹھی تھی سیندور کے لیے

سوئی کی نوک سے نہیں نکلے گا یہ مواد

نشتر بھی تیز چاہیے ناسور کے لیے

ظلِ الٰہی! آپ تو پرہیز کیجیے

جائز تو ہے حرام، پہ مجبور کے لیے

سچ بولنے کے جرم میں کاٹی گئی زباں

دار و رسن ہیں آج بھی منصور کے لیے


تبسم اعظمی

No comments:

Post a Comment