Thursday, 15 April 2021

اس کی صورت اس کی آنکھیں اس کا چہرا بھول گئے

 اس کی صورت اس کی آنکھیں اس کا چہرا بھول گئے

جس رستے پر برسوں بھٹکے ہم وہ رستا بھول گئے

تیز ہوا کے ظالم جھونکے لمحہ لمحہ ساتھ رہے

لمحہ لمحہ اک مدت تک درد جو اٹھا بھول گئے

صحرا صحرا چلتے چلتے کچھ ایسے مانوس ہوئے

اپنے اپنے شہر کا راہی گوشہ گوشہ بھول گئے

پگڈنڈی جو رنج و الم کو جاتی تھی وہ یاد نہیں

خوشیوں کا بھی شیش محل میں ایک تھا ڈیرا بھول گئے

کہتے ہیں کچھ دوست ہمارے ہم کافی متوازن ہیں

اس منزل تک آتے آتے جانے کیا کیا بھول گئے


انوار حبیب

No comments:

Post a Comment