رُتوں کے رنگ بدلتے ہوئے بھی بنجر ہے
وہ ایک خاص علاقہ جو دل کے اندر ہے
بُجھا بُجھا ہوا رہتا ہوں اپنے خوابوں میں
دُھواں دُھواں سا مِرے جاگنے کا منظر ہے
عجیب خواب سا دیکھا کہ پورے دریا میں
کوئی جہاز کہیں ہے نہ کوئی لنگر ہے
بدن پہ ٹُوٹ بکھرنے کو ہے کہیں نہ کہیں
ہراس خوف کا سایہ جو میرے سر پر ہے
میں کس کی کھوج میں یوں ہی بِتا رہا ہوں جنم
چھپا ہوا مِرے سائے میں کس کا پیکر ہے
سنا رہی ہے ہوا اپنے ہی سفر نامے
عجیب شور گھنے جنگلوں کے اندر ہے
کامل اختر
No comments:
Post a Comment