تمنّا دو دِلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے
اب ان کی ہر خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی ہے
دلوں پر سب کے اک افسردگی معلوم ہوتی ہے
تِری محفل میں یہ کس کی کمی معلوم ہوتی ہے
سمجھ کی چال چل جاتا ہے دِیوانہ محبت کا
بظاہر وہ بھی اک دِیوانگی معلوم ہوتی ہے
یقیں محکم، عزائم آہنی، سعی و عمل پیہم
انہیں سے آدمی کی زندگی معلوم ہوتی ہے
گھسیٹے جاتے ہیں کانٹوں میں ان کے چاہنے والے
خدا جانے محبت کیوں بُری معلوم ہوتی ہے
جبینِ شوق کا جب رابطہ ہو ان کے قدموں سے
انہیں سجدوں میں شانِ بندگی معلوم ہوتی ہے
تصرف دِید کے قابل ہے کامل چشمِ ساقی کا
نظر مِلتے ہی دنیا دُوسری معلوم ہوتی ہے
کامل شطاری
No comments:
Post a Comment