Thursday, 12 August 2021

ادھر بھی لوگ آنے لگ گئے ہیں

 ادھر بھی لوگ آنے لگ گئے ہیں

کہ پتے کھڑکھڑانے لگ گئے ہیں

ہے دیکھو کیا غضب موسم نے ڈھایا

کہ ہم بھی گنگنانے لگ گئے ہیں

تِرے دل میں ہوا ہے پیار پیدا

مگر اس میں زمانے لگ گئے ہیں

غمِ دنیا، ہٹا لے بوجھ اب تو

زمیں سے میرے شانے لگ گئے ہیں


شہزاد عادل

No comments:

Post a Comment