Thursday, 12 August 2021

زہر پر زہر چل نہیں سکتا

 زہر پر زہر چل نہیں سکتا

سانپ بِچھو نگل نہیں سکتا

تجربہ لاکھ کیجیۓ اس پر

پھر بھی پتھر پگھل نہیں سکتا

بھول بیٹھوں گا تجھ کو جیتے جی

میں تو اتنا بدل نہیں سکتا

غیر کی ٹانگ کھینچ کر بھائی

کوئی آگے نکل نہیں سکتا

اس کی مرضی اگر نہیں ہو گی

گرنے والا سنبھل نہیں سکتا

نوچ سکتا ہے وہ ہمارا پر

عزم لیکن کچل نہیں سکتا


فیض الامین

No comments:

Post a Comment