Wednesday, 19 January 2022

گرچہ میں بن کے ہوا تیز بہت تیز اڑا

 گرچہ میں بن کے ہوا تیز بہت تیز اُڑا

وہ بگُولا تھا مگر میرے تعاقب میں رہا

مجھ سے کتنوں کو اسی دن کی شکایت ہو گی

ایک میں ہی نہیں جس پر یہ کڑا وقت پڑا

اور تاریک مِری راہگزر کو کر دے

تُو مگر اپنی تمنا کے ستارے نہ بُجھا

اب تو ہر وقت وہی اتنا رُلاتا ہے مجھے

جس کو جاتے ہوئے میں دیکھ کے رو بھی نہ سکا

تم سے چاہا تھا بہت ترکِ تعلق کر لوں

جانے کیوں مجھ سے مِری جاں کبھی ایسا نہ ہوا

عمر بھر یاد رہا اپنی وفاؤں کی طرح

ایک وہ عہد جسے آپ نے پورا نہ کیا

کوئی سُورج تو ملے، کوئی سہارہ تو بنے

چاند کا ہاتھ مِرے ہاتھ سے پھر چھوٹ گیا


کامل اختر

No comments:

Post a Comment