دُھند میں لپٹی ہوئی رات سے ڈر لگتا ہے
ذات کے شہرِ خرابات سے ڈر لگتا ہے
اُٹھ کے آئے ہیں جو اک گاؤں کے کچے گھر سے
اُن کو اِن اونچی عمارات سے ڈر لگتا ہے
بانسری میں وہ سمو دیتا ہے کیا درد کے سُر
مجھ کو چرواہے کے نغمات سے ڈر لگتا ہے
سارے اعمال ترازو میں تُلیں گے جس دن
دل کو اُس روزِ حسابات سے ڈر لگتا ہے
آدمی دے ہی نہیں سکتا کبھی جن کے جواب
ایسے پیچیدہ سوالات سے ڈر لگتا ہے
کاش میں جان سکوں اس کے اردے کیا ہیں
اس کے پوشیدہ خیالات سے ڈر لگتا ہے
پچھلی بارش میں بھی چھت ٹپکی تھی میرے گھر کی
آنے والی مجھے برسات سے ڈر لگتا ہے
عذرا ناز
No comments:
Post a Comment