Thursday, 20 January 2022

جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے

 جو کیف عشق سے خالی ہو زندگی کیا ہے

شگفتگی نہ ملے جس میں وہ کلی کیا ہے

مِری نگاہ میں ہے ان کا عارض روشن

یہ کہکشاں یہ ستارے یہ چاندنی کیا ہے

جمالِ یار کی رعنائیوں میں گم ہے نظر

مجھے یہ ہوش کہاں ہے کہ زندگی کیا ہے

اٹھا بھی جام کہ دنیا تِرے قدم چومے

یہ مے کدہ ہے یہاں عیش کی کمی کیا ہے

تمہاری یاد میں بیٹھے ہیں دل کو بہلانے

صنم تراشی و ذوق مصوری کیا ہے

نفس نفس پہ یہ احساس غم یہ مجبوری

خدا گواہ، قیامت ہے زندگی کیا ہے

نگاہِ شوق کے اٹھنے کی دیر ہے شاعر

وہ بے قرار نہ آئے تو بات ہی کیا ہے


شاعر فتحپوری

No comments:

Post a Comment