حدیثِ شیشہ و سنگِ ستم گری کیا ہے
یہ زندگی ہے، تو آخر یہ زندگی کیا ہے
گھروں میں چین سہی بستیوں میں امن سہی
تو پھر یہ آگ دلوں میں لگی ہوئی کیا ہے
ابھی تو غنچہ و گل سے شرار برسیں گے
ابھی بہار کا آغاز ہے،۔ ابھی کیا ہے
حرم میں بھی وہی؛ زناری رسوم و قیود
تو پھر یہ شيخ و برہمن میں دشمنی کیا ہے
بس اک یہی دل ہے مدعا سو وہ بھی کیا
غریبِ شہر ہوں، میری بساط ہی کیا ہے
خرد کے اپنے مشاغل، جنوں کا اپنا مذاق
کسے بتاؤں کہ اندوہ آگہی کیا ہے
دلوں کو دولتِ خود آگہی عطا کر دے
یہی ہے راہبری اور رہبری کیا ہے
نژاد نو کو یہ کیا علم، عرصۂ جاں میں
خدا کا خوف، دلوں کی تونگری کیا ہے
کوئی تو ہے چمن آرا لیے رنگ و بو ورنہ
یہ غنچے کیا ہیں، یہ گل کیا، كلی کیا ہے
سہار دے نہ اگر لذتِ خود آزاری
تو کاروبار محبت میں دلکشی کیا ہے
چراغِ راہگزر بن کے جل رہا ہوں میں
مجھے خبر ہے کہ کارِ پیمبری کیا ہے
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment