Monday, 5 October 2020

جب بھی تری یادوں کی چلنے لگی پروائی

 جب بھی تِری یادوں کی چلنے لگی پُروائی

ہر زخم ہوا تازہ،۔ ہر چوٹ ابھر آئی

اس بات پہ حیراں ہیں ساحل کے تماشائی

اک ٹوٹی ہوئی کشتی ہر موج سے ٹکرائی

مے خانے تک آ پہنچی انصاف کی رسوائی

ساقی سے ہوئی لغزش رندوں نے سزا پائی

ہنگامہ ہوا برپا،۔ اک جام اگر ٹوٹا

دل ٹوٹ گئے لاکھوں، آواز نہیں آئی

اک رات بسر کر لیں آرام سے دیوانے

ایسا بھی کوئی وعدہ، اے جان شکیبائی

کس درجہ ستمگر ہے یہ گردشِ دوراں بھی

خود آج تماشا ہیں، کل تھے جو تماشائی

کیا جانیے کیا غم تھا مل کر بھی یہ عالم تھا

بے خواب رہے وہ بھی ہم کو بھی نہ نیند آئی


حفیظ بنارسی

No comments:

Post a Comment