Saturday, 11 September 2021

کیا بتاؤں میں کیا ہوا ہے مجھے

 کیا بتاؤں میں کیا ہوا ہے مجھے

زیست کیوں لگ رہی سزا ہے مجھے

اب میں باقی نہیں کہیں اس میں

اب وہ حسرت سے دیکھتا ہے مجھے

عکس پڑتے ہی آئینہ میرا

خود ہی حیرت میں ڈالتا ہے مجھے

توڑ ڈالے نہ جام کے مانند

اُس نے ہاتھوں میں لے لیا ہے مجھے

میں نے دیکھا ہے دل کی آنکھوں سے

کوئی چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہے مجھے

اب کے لہجے میں کیا چُھپا ہے ترے

کیوں یہ نشتر سا چُبھ رہا ہے مجھے

اس کی یادوں کا لمس چُپکے سے

سرد جھونکوں سا چُھو گیا ہے مجھے


زارا قاسمی

No comments:

Post a Comment