کیا بتاؤں میں کیا ہوا ہے مجھے
زیست کیوں لگ رہی سزا ہے مجھے
اب میں باقی نہیں کہیں اس میں
اب وہ حسرت سے دیکھتا ہے مجھے
عکس پڑتے ہی آئینہ میرا
خود ہی حیرت میں ڈالتا ہے مجھے
توڑ ڈالے نہ جام کے مانند
اُس نے ہاتھوں میں لے لیا ہے مجھے
میں نے دیکھا ہے دل کی آنکھوں سے
کوئی چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہے مجھے
اب کے لہجے میں کیا چُھپا ہے ترے
کیوں یہ نشتر سا چُبھ رہا ہے مجھے
اس کی یادوں کا لمس چُپکے سے
سرد جھونکوں سا چُھو گیا ہے مجھے
زارا قاسمی
No comments:
Post a Comment