Tuesday, 14 September 2021

شدت شوق اثر خیز ہے جادو کی طرح

 شدتِ شوق اثر خیز ہے جادو کی طرح

دل کی دھڑکن کی بھی آواز ہے گھنگھرو کی طرح

میں وہ دیوانہ‌ٔ حالات ہوں صحرا صحرا

جو پھرا کرتا ہے بھٹکے ہوئے آہو کی طرح

جانے کس رنگ میں آئی ہے بہاراں اب کے

پھول بھی زخم سا شبنم بھی ہے آنسو کی طرح

وہ جو امواج حوادث میں ہیں پلنے والے

ان کو طوفاں نظر آتا ہے لب جو کی طرح

گمرہِ شوق کو ہمراہ دکھانے کے لیے

ظلمت شب میں چمکتے رہے جگنو کی طرح

فکر و فن کی نئے گلدستے سجا کر واحد

آؤ بس جائیں ہر اک ذہن میں خوشبو کی طرح


واحد پریمی

No comments:

Post a Comment