Tuesday, 14 September 2021

اس نے تھانے میں رپٹ کچھ ایسی لکھوائی کہ بس

نمکینیات


 اس نے تھانے میں رپٹ کچھ ایسی لکھوائی کہ بس 

پھر پولیس نے کی مِری ایسی پذیرائی کہ بس 

یہ پولیس والے کسی کے بھی سگے ہوتے نہیں 

ان کو رشوت سے ملے ہے وہ توانائی کہ بس 

نوکری مل جائے چاہے سیلری تھوڑی ہو کم 

ہاں مگر اوپر سے وہ انکم ہو بالائی کہ بس 

میں نے بیگم سے کہا؛ ہوں گے یہ بچے کب تلک 

بولی جب تک اپنے منہ سے کہہ نہ دے دائی کہ بس 

آج کل کردار کا معیار بھی دولت سے ہے 

اتنی سستی ہو گئی دستار و دانائی کہ بس 

ہیں بظاہر سب سیاستداں وطن کے خیر خواہ 

اور بہ باطن اس قدر دولت کے شیدائی کہ بس 

جسم پر نشتر کوئی بھی سوٹ فٹ آتا نہیں 

ہو گئی ہے توند کی کچھ ایسی گولائی کہ بس 


نشتر امروہوی

نشتر امروہی

No comments:

Post a Comment