Tuesday, 14 September 2021

میرے لہو میں زندگی بن کے دوڑتی اے لال رنگی

 میرے لہو میں زندگی بن کے دوڑتی اے لال رنگی سجنجلی

اے خوبرو، اے دل نشیں

خدائے سخن کی نظموں غزلوں کا منبع 

اے جادوئی کم سِن حسینہ

تُو اس دھرتی پہ کوہ قاف کی وہ پہیلی ہے کہ جس کی جھلک دیکھ کر

سب فلسفی وجود قاف پراب تک مباحثے میں ہیں

تیرے سبب ہی پریاں لاحقے میں ہیں

تُو وہی ہے کہ 

جس کی آنکھوں کی روشنی دیکھ کر اب میری بستی میں موجود 

سادھوؤں درویش رو کسی کو بھی چاندنی بھاتی نہیں ہے

تُو وہی ہے کہ جس کے گالوں پہ بہتی بارش کی بوندوں 

(تمہیں چھونے کے بعد موتی ہیں جو) 

کو چن کر جھرنوں کو جنما گیا ہے

پیکرِ صندلیں

وہ قلو پطرہ کہ جس کی خوبصورتی کو 

دنیا اب بھی مانے چلی جا رہی ہے

وہ جس کو فرہاد نے ایک شیریں کی خاطر چاک کیا تھا 

قسم ہے مجھے اس کہسار کی

تیرے سنگھار کی

تیرے آگے قلوپطرہ کے رنگوں کا کوئی بھی معنی نہیں ہے

تجھ سے کم ہے مگر تیری ثانی نہیں ہے

علینِ بہشت کے تیری قربت میں 

میرے چہرے پہ گرتی وہ ٹھنڈی ہوائیں مطربائیں

رقاصائیں باغ جنا کی

مگر کون دیکھے، کون تانکتا پھرے

کہ ہم کو تو تجھ سے ہی فرصت نہیں ہے

اور تمام تر محبت یہیں ہے


امان سعید

No comments:

Post a Comment